پنجاب میں فرانزک نظام کی اپ گریڈیشن، 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس کے قیام کا فیصلہ

06-09-2026

(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے صوبے میں فرانزک اور تفتیشی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منصوبے پر 14 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی جبکہ اسے 24 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق قتل، زیادتی، دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کی تفتیش کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور فرانزک ماہرین سے لیس نئے کرائم سین یونٹس ضلعی سطح پر فوری رسپانس فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے کرائم سین سے شواہد کے ضائع ہونے اور ناقص تفتیش جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ منصوبے کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے گا جبکہ شواہد کی کلیکشن، پیکنگ، تحفظ اور منتقلی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ فرانزک خدمات کا دائرہ دور دراز اضلاع تک بڑھانے سے تفتیشی نظام مزید مضبوط ہوگا اور جرائم میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں آسانی ہوگی۔ واضح رہے کہ اس وقت ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں آٹھ کرائم سین یونٹس فعال ہیں، جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، رحیم یار خان اور گجرات میں نئے یونٹس کی تعمیر جاری ہے۔ اس کے علاوہ بھکر، جھنگ، سیالکوٹ، قصور، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ سمیت دیگر 28 اضلاع میں بھی جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے۔