چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ایک ماہ میں جیل اصلاحات کا حکم

06-08-2026

(لاہور نیوز) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ و چیئرپرسن صوبائی جسٹس کمیٹی، عالیہ نیلم کی زیر صدارت صوبائی جسٹس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالتی نظام، انصاف کی بروقت فراہمی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کی  نیو ججز لائبریری میں ہونے والے اجلاس کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں جیل اصلاحات کے عمل کو ایک ماہ کے اندر مؤثر انداز میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس حوالے سے پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا حکم دیا۔ انہوں نے لاہور سمیت پنجاب کے تین اضلاع میں خواتین جیلوں کے قیام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ چیف جسٹس نے آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کی خدمات اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل محکمہ جیل خانہ جات میں قابلِ قدر اصلاحات متعارف کروائیں اور بہترین کام کیا ہے۔ اجلاس میں عدالتی امور میں شفافیت اور سہولت پیدا کرنے کے لیے چیف جسٹس نے کچہریوں کے بخشی خانوں میں تصدیق شدہ وکالت ناموں کا نظام متعارف کروانے کی ہدایت جاری کی۔ اسی طرح موٹر وے پر جرمانوں کی وصولی کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے نقد رقم کے بجائے مکمل طور پر ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نافذ کرنے پر زور دیا گیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم  نے کہا کہ موٹر ویز پر ٹریفک حادثات کی صورت میں ریسکیو اداروں کا رسپانس ٹائم کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے اور عوام کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔