اراضی قبضوں کیخلاف پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ فعال، خصوصی ٹریبونلز قائم

06-06-2026

(لاہور نیوز) پنجاب میں پراپرٹی ترمیمی ایکٹ فعال کر دیا گیا ہے جبکہ 575 کیسز میں حکم ختم کر دیا گیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے صوبے کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو خصوصی ٹریبونلز کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ٹریبونلز کے لیے ایڈیشنل ججز کی نامزدگیاں پنجاب حکومت کو ارسال کر دی ہیں۔ ترمیمی ایکٹ کے تحت ایڈیشنل سیشن ججز بطور ٹریبونل بااختیار ہوں گے اور اراضی پر ناجائز قبضہ ثابت ہونے کی صورت میں 3 سے 10 سال تک قید کی سزا سنا سکیں گے۔ نامزد کیے گئے ججز میں لاہور میں بطور ٹریبونل ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل، قصور میں محمد اشفاق، اٹک میں ندیم احمد سہیل چیمہ، بہاولنگر میں محمد صلابت جاوید، بہاولپور میں ساحر اسلام، بھکر میں محمد اعظم جاوید، چنیوٹ میں نعیم عباس، چکوال میں قاسم علی بھٹی، ڈی جی خان میں سرفراز حسین، فیصل آباد میں عمران شفیع خان، گوجرانوالہ میں محمد فرحان نبی اور گجرات میں مظفر نواز ملک شامل ہیں۔ اسی طرح حافظ آباد میں عمر رشید، جھنگ میں عمر فاروق خان، جہلم میں مرزا اورنگزیب، خانیوال میں عبداللہ عثمان، خوشاب میں محمد بشیر، لودھراں میں حمد ایاز، لیہ میں محمد پرویز نواز، منڈی بہاؤالدین میں محمد فخر آفتاب احمد، میانوالی میں عبدالغفور، ملتان میں غزالہ یاسمین، مظفر گڑھ میں محمد احمد حسنین خان، نارووال میں عالم شیر اور ننکانہ صاحب میں مجاہد شیردل چیمہ کو بطور ٹریبونل نامزد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اوکاڑہ میں خلیل احمد خان، پاکپتن میں اسد حفیظ، راولپنڈی میں چوہدری قاسم جاوید، راجن پور میں محمد اشرف، رحیم یار خان میں محمد بلال، ساہیوال میں محمد نعیم، سیالکوٹ میں عابد رضا خان، شیخوپورہ میں عبدالحمید، سرگودھا میں ظفر حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد کاشف اور وہاڑی میں محمد عمران کو بطور ٹریبونل ایڈیشنل سیشن جج نامزد کیا گیا ہے۔ ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے بعد اراضی پر ناجائز قبضوں سے متعلق مقدمات کی سماعت خصوصی ٹریبونلز میں کی جائے گی اور قانون کے تحت سخت سزاؤں کے ذریعے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔