نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو اسکے طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

06-05-2026

(ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے حقِ مہر میں دی گئی زمین کے تنازع پر خاتون کی درخواست منظور کر لی۔

ٹرائل کورٹ کا زمین کی جگہ 16 لاکھ رقم دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھجوا دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جسٹس سلطان تنویر نے درخواست پر حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو اس کے طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان 2015ء میں نکاح ہوا اور حقِ مہر 2 ایکڑ زمین رکھی گئی، شوہر نے زمین کی جگہ 2015ء کے ریٹ کے تحت 16 لاکھ روپے ادا کیے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق نکاح نامے میں 2 ایکڑ زمین بطور حقِ مہر رکھی گئی تھی، اگر زمین کی جگہ رقم ادا کرنی ہے تو موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ادا کی جائے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے، اس کی شرائط فریقین کی نیت کے مطابق سمجھی جائیں، نکاح نامے کی کسی شق کی تشریح کرتے وقت فریقین کی حقیقی نیت جاننا ضروری ہے، عدالتوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نکاح کے وقت خاتون کو اپنے حقوق کا علم تھا یا نہیں۔ حکم نامے کے مطابق شوہر کسی ابہام کا فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقوق سلب نہیں کر سکتا، ٹرائل کورٹ نے حقِ مہر کی شق کی درست تشریح نہیں کی۔