غیراستعمال شدہ بجلی یونٹس کی مد میں کھربوں روپے کی وصولی ہائیکورٹ میں چیلنج

06-02-2026

(لاہور نیوز) غیراستعمال شدہ بجلی یونٹس کی مد میں کھربوں روپے کی وصولی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

درخواست شہری اشبا کامران کی جانب سے دائر کی گئی جس میں نیپرا، وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت بجلی صارفین سے ایسے یونٹس کی قیمت بھی وصول کر رہی ہے جو درحقیقت استعمال ہی نہیں ہوئے، بجلی بلوں میں شامل کیپسٹی چارجز پارلیمنٹ کی باقاعدہ منظوری کے بغیر وصول کئے جا رہے ہیں، جو قانونی اور آئینی تقاضوں کے منافی ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کو قومی گرڈ کے ذریعے ڈالر کی شرح کے مطابق ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جو آئین اور عوامی مفاد کے خلاف ہیں، بجلی کی ادائیگیاں صرف سسٹم میں فراہم کی جانے والی اور استعمال ہونے والی بجلی کی بنیاد پر کی جانی چاہئیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ بجلی کی پیداوار اور فراہمی کے حقیقی حجم کے مطابق ادائیگیوں کا نظام وضع کرے اور آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیوں کی مد میں وصول کئے گئے کھربوں روپے واپس لینے کے اقدامات کرے۔ درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے میں مبینہ طور پر ملوث نیپرا اور دیگر متعلقہ حکام کے کردار کا جائزہ لے کر ان کے احتساب کا حکم دیا جائے۔