پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہ ہو سکا، تجارتی خسارہ برقرار
06-02-2026
(لاہور نیوز) پاکستان کی برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہو سکا، جبکہ تجارتی خسارے کا دیرینہ مسئلہ بدستور برقرار ہے۔
اقتصادی ماہرین اور پالیسی سازوں کی توجہ اب آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مرکوز ہے، جس میں برآمدی شعبے کو خصوصی ریلیف دینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں برآمدی صنعتوں کیلئے خام مال پر عائد ڈیوٹیز میں کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں، حکومت آئندہ مالی سال میں برآمدات میں نمایاں اضافے کو اہم ہدف قرار دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان کی برآمدات زیادہ سے زیادہ 32 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکیں، جو گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ کی گئیں، دوسری جانب درآمدات کا بلند ترین حجم مالی سال 2021-22 میں 80 ارب ڈالر رہا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے کم برآمدات مالی سال 2020-21 میں 25 ارب 30 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ سب سے کم درآمدات مالی سال 2023-24 میں 54 ارب 70 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ تجارتی خسارے کے حوالے سے مالی سال 2021-22 بدترین ثابت ہوا، جب خسارہ 48 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، اس کے برعکس گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے کم تجارتی خسارہ مالی سال 2023-24 میں 24 ارب ڈالر رہا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران برآمدات کا حجم 25 ارب 20 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 32 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو معیشت کیلئے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔