زیادتی کا شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاط حمل کے دوران جاں بحق

06-02-2026

(لاہور نیوز) ماڈل ٹاؤن میں اجتماعی زیادتی کا شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاط حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کے معاملے میں پولیس  نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کر لی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیانات کی روشنی میں اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا، ویڈیو بیان میں لڑکی نے الزام عائد کیا کہ مالک مکان کا بیٹا اور گھر کا ڈرائیور گزشتہ پانچ ماہ سے اسے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق نومبر میں اسے حاملہ ہونے کا علم ہوا تھا، جس کے بعد اس نے اپنے والدین کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا، بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسے اسقاط حمل کیلئے رائیونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں طبیعت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ  نے صورتحال مشکوک ہونے پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا، پولیس کے مطابق لڑکی نے ابتدائی طور پر اپنے تحریری اور ویڈیو بیان میں متعدد افراد کو نامزد کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس نے اپنا بیان تبدیل کر دیا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مالکان اور والد کے مبینہ دباؤ کے باعث لڑکی نے ہلاکت سے قبل اپنے مؤقف میں تبدیلی کی اور صرف ڈرائیور کو ذمہ دار قرار دیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متاثرہ ملازمہ سروسز ہسپتال میں دو روز تک زیر علاج رہی، تاہم جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی، پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید شواہد کی روشنی میں کیس کی تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔