صوبائی حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
05-29-2026
(لاہورنیوز) پنجاب حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
پنجاب میں مزدوروں، کنٹریکٹ ورکرز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم ورکرز کیلئے نیا لیبر قانون نافذ کردیا گیا۔پنجاب حکومت نے تمام بڑے لیبر قوانین کو یکجا کرکے نیا لیبر کوڈ نافذ کردیا، گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد “پنجاب لیبر کوڈ 2026” گزٹ نوٹیفائی کردیا گیا۔ جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق جبری مشقت، بانڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر کیخلاف سخت ترین قانونی فریم ورک منظور کر دیا گیا، پہلی بار فوڈ ڈیلیوری اور ایپ بیسڈ ورکرز بھی لیبر قانون کے دائرے میں شامل کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں ایپ کے ذریعے کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کیلئے نیا قانون منظور کیا گیا جس کے بعد پنجاب میں فوڈ ڈیلیوری، آن لائن ایپس اور رائیڈ سروسز سے وابستہ ورکرز کو پہلی بار قانونی تحفظ مل گیا، علاوہ ازیں گھر بیٹھ کر یا آن لائن کام کرنے والے ملازمین بھی اب لیبر قانون کے دائرے میں آگئے۔ نیا لیبر کوڈ نافذ کے مطابق کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل حقوق سے محروم کرنا مشکل ہے، پنجاب لیبر کوڈ 2026 کے تحت دفتر یا کام کی جگہ پر ہراسانی، بدتمیزی اور تشدد پر قانونی کارروائی ہوسکے گی علاوہ ازیں حکومت پنجاب نے ملازمین کو نوکری چھوڑنے کے بعد دوسری کمپنی میں کام کرنے سے روکنے والی شرائط محدود کردیں۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق لیبر کوڈ میں ملازمین کی تنخواہ خفیہ رکھنے کی پالیسیوں پر قدغن لگانے کی دفعات شامل کی گئیں ہیں، تمام شعبوں کے ورکرز کیلئے یکساں لیبر فریم ورک متعارف ککرایا گیا ہے جبکہ ڈومیسٹک ورکرز، زرعی مزدور اور تعمیراتی ورکرز بھی نئے قانون میں شامل ہیں۔ پنجاب لیبر کوڈ 2026 کو عالمی لیبر تنظیم کے اصولوں سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے جبکہ پنجاب لیبر کوڈ 2026” پنجاب بھر کے تمام ورک پلیسز پر لاگو ہوگا۔