فرنٹیئر اکنامکس نے موبائل سیکٹر پر بھاری ٹیکس کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیدیا
05-25-2026
(لاہورنیوز) پاکستان میں موبائل سیکٹر پر عائد بھاری ٹیکس کو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دے دیا گیا، عالمی معاشی تحقیقی ادارے فرنٹیئر اکنامکس نے اہم رپورٹ جاری کر دی۔
فرنٹیئر اکنامکس نے رپورٹ میں سفارش کی کہ موبائل سروسز پر مجموعی 37 فیصد سیلز و ٹرن اوور ٹیکس کم کرکے 17 فیصد کیا جائے، صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سالانہ 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کم کر کے 1 فیصد کی جائے، 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کم کر کے 16 فیصد کیا جائے۔ فرنٹیئر اکنامکس کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، موبائل انٹرنیٹ استعمال اور حکومتی محصولات میں طویل المدتی اضافہ ممکن ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے والے ممالک میں شامل ہے، پاکستان میں موبائل سروسز پر مجموعی سیلز اور ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 37 فیصد ہے۔ فرنٹیئر اکنامکس کے مطابق ٹیکسوں میں 19.5 فیصد سیلز ٹیکس، صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق موبائل کمپنیوں کے منافع پر 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس کے ساتھ 10 فیصد سپر ٹیکس بھی عائد ہے، موبائل سیکٹر میں ٹیکسوں کی کمی سے ڈیجیٹلائزیشن، مالی شمولیت اور معاشی ترقی کا فروغ ممکن ہوگا۔ فرنٹیئر اکنامکس نے سفارش کی ہے کہ موبائل سیکٹر پر عائد مخصوص ٹیکسوں کو کم کرکے انہیں دیگر شعبوں کے برابر لایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ ٹیکس اصلاحات کے بعد موبائل آپریٹرز کی آمدن میں تقریباً 6.4 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، ٹیکسوں میں کمی سے موبائل صارفین اور موبائل ڈیٹا استعمال میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ فرنٹیئر اکنامکس کے مطابق موبائل فون کے استعمال میں ایک فیصد اضافے سے فی کس جی ڈی پی کی شرح نمو میں تقریباً 0.115 فیصد پوائنٹس اضافہ ممکن ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہ ٹیکسوں میں کمی سے پاکستان میں فی کس جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد سے بڑھ کر 4.5 فیصد تک جاسکتی ہے۔ فرنٹیئر اکنامکس نے سفارش کی ہے کہ موبائل سروسز ، سم کارڈز اور رسائی سے متعلق اضافی چارجز بھی ختم کیے جائیں، ٹیکس اصلاحات کو پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔