پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور

05-25-2026

(لاہورنیوز) ایف پی سی سی آئی لاہور میں پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں کاروباری، معاشی اور پالیسی حلقوں کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ، ایس ایم تنویر، سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز اور اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ تھنک ٹینک کے سی ای او احمد نواز سکھیرا نے ملکی معیشت اور پالیسی سازی سے متعلق اہم نکات پیش کیے۔ ایس ایم تنویر نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی پہلی مرتبہ ایک مکمل معاشی پلان پیش کر رہا ہے، جس میں ٹیکس پالیسی، اکنامک سروے اور پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ صرف تجاویز نہیں بلکہ ایک جامع معاشی فریم ورک ہے، انہوں نے کہا کہ بجٹ اور پالیسی سازی میں حکومتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت اور پالیسی ساز ان سفارشات کو عملی شکل دیں گے۔ احمد نواز سکھیرا نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ شیڈو پالیسی پیپرز جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ نجی شعبے کی ترقی سے نہ صرف معاشی گروتھ میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، انہوں نے کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور معاون ٹیکس پالیسی اپنانے پر بھی زور دیا۔  سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں سفارتی لحاظ سے اپنا لوہا منوا چکا ہے اور اب ان کی خواہش ہے کہ ملک معاشی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے مختلف تجاویز تیار کی گئی ہیں اور ملکی ترقی کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ گوہر اعجاز نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملک میں استحکام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ فیلڈ مارشل کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے خواب کو آج دستاویزی شکل میں پیش کیا ہے اور ان پالیسی دستاویزات کو وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں عملی شکل دی جا سکے۔ گوہر اعجاز نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت حقیقی معنوں میں معاشی سپر پاور بن سکتا ہے جب نجی شعبے کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔