لاہور ہائیکورٹ: آٹزم متاثرہ بچی کے نان و نفقہ سے متعلق درخواستیں مسترد

05-25-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے آٹزم سے متاثرہ بچی کے نان و نفقہ کے تعین سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بچی کا خرچہ بڑھانے اور والد کی جانب سے خرچہ کم کرنے کی دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

جسٹس عابد حسین چٹھہ نےعلیہا نورالامین مینگل کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار نے فیملی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں آٹسٹک بچی کا ماہانہ خرچہ ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پر عام بچوں کی نسبت چار گنا زیادہ اخراجات آتے ہیں، اس لیے ان کے نان و نفقہ کے تعین کے لیے الگ معیار مقرر کیا جانا چاہیے۔ درخواست گزار کے مطابق نورالامین مینگل کی پہلی بیوی سے اولاد مہنگے تعلیمی اداروں بشمول ایچی سن کالج میں زیرِ تعلیم ہے، جبکہ ان کا طرزِ زندگی ان کی ظاہر اور خفیہ آمدنی کی عکاسی کرتا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ فیملی عدالت نے والد کی مالی حیثیت کے باوجود آٹسٹک بچی کے اخراجات کم مقرر کیے۔ دوسری جانب نورالامین مینگل کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی عدالت نے بچی کا خرچہ زیادہ مقرر کیا ہے اور اسے کم کرکے 50 ہزار روپے کیا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فیملی عدالت اور اپیل عدالت نے تمام حقائق اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب فیصلہ کیا۔ جسٹس عابد حسین چٹھہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ آئینی درخواست میں فیملی اور اپیل عدالتوں کی فائنڈنگ میں مداخلت نہیں کر سکتی۔