فواد چودھری نے میاں عامر محمود کے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کی تائید کردی
05-24-2026
(لاہورنیوز) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے میاں عامر محمود کے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کی تائید کردی۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’ ٹو نائیٹ ود ثمر عباس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ دنیا بھر میں کے ملک میں گفتگو کا حصہ بن چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے ممالک میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بہت عام ہیں، امریکہ ہو یا برطانیہ وہاں لوکل گورنمنٹ کے ذریعے صوبوں کے قیام کا عمل میں لایا جاتا ہے۔ سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 18ترمیم اِسی مقصد کے لیے لائی گئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ملک میں مزید صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، لیکن بدقسمتی سے اِس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ فواد چودھری نے کہا کہ پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں نئے صوبوں کے قیام پر کچھ کام ہوا لیکن بعد میں وہ بھی نہیں ہوسکا،اِس سے ہوا یہ کہ آپ نے وفاق کو کمزور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اِس ملک میں اگر آپ نے بڑی اصلاحات کرنی ہے تو اِس کے علاوہ کوئی حل نہیں کہ یہاں نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 1970میں بلوچستان میں پورے پاکستان کو اکٹھا کردیا گیا، اِسی طرح کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اُس کو سندھ میں دوبارہ سندھ میں شامل کردیا جس کی کوئی منطق نہیں تھی۔میاں عامر محمود کی تجویز جس میں کہا گیا تھا کہ صوبوں میں جس طرح ڈویژن کی تقسیم ہوئی تو اُن کو صوبے بنا دیا جائے اِس سے تمام صوبوں میں مساوی طور پر وسائل اور فنڈز استعمال ہوں گے ،کہ سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ میاں صاحب نے بنیادی بات درست کی ہے اِس پر کسی کو اختلاف نہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت آپ کو گودار کو دیکھنا ہو گیا، اِ سی طرح فاٹا کے علاقوں کے معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، اِس معاملے پر وسیع مباحثہ کی ضرورت ہے اور آپ کو نئے صوبوں بنانا ہی ہوں گے۔