لاہور ہائیکورٹ: مون سون میں ممکنہ تباہی سے بچاؤ کیلئے ہنگامی تیاریاں کرنے کی ہدایت
05-21-2026
(ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے مون سون سیزن سے قبل ممکنہ غیر معمولی بارشوں اور شہری مسائل کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس شاہد کریم نے کی، دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رواں سال غیر معمولی بارشوں کی توقع ہے اور اگر بروقت انتظامات نہ کئے گئے تو بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ عدالت نے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ مقررہ وقت تک پلانٹس نصب نہ کرنے والی شوگر ملز کو چلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے، محکمہ ماحولیات کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایسی شوگر ملز کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے جبکہ انہیں 31 مئی تک مہلت دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے واسا سے واٹر میٹرز کی تنصیب سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی، ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت میں ٹرانسپلانٹ کئے گئے درختوں سے متعلق رپورٹ پیش کی، جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اگر یہ درخت کامیابی سے بڑھ رہے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی بارشی پانی کو محفوظ بنانے کیلئے ری چارج ویلز نصب کرنے جا رہے ہیں، اس پر عدالت نے قرار دیا کہ زیرِ زمین پانی کے تحفظ کیلئے ری چارج ویلز انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ سماعت میں پنجاب حکومت کے لاء افسر، ایل ڈی اے، پی ایچ اے، محکمہ ماحولیات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی پیش ہوئے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت عید کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔