پاکستان میں دوران پرواز انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی اجازت کا فیصلہ
05-07-2026
(لاہور نیوز) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں ہوائی جہازوں میں دوران پرواز انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی فراہمی کی اصولی اجازت دیتے ہوئے ان فلائٹ ٹیلی کمیونیکیشن سیٹلائٹ سروسز کے لیے لائسنس کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق لائسنس فیس 10 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے جبکہ فی الحال سپیکٹرم فیس لاگو نہیں ہوگی، تاہم مستقبل میں اس پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ لائسنس کا مسودہ مشاورت کے لیے جاری کیا گیا ہے اور سٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 مئی تک اپنی تجاویز اور سفارشات جمع کروائیں۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت لائسنس ہولڈرز کو پرواز کے دوران سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ اور موبائل ٹیلی کمیونیکیشن خدمات فراہم کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم موبائل سروس کے استعمال کو 3000 میٹر بلندی سے مشروط کیا گیا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق لائسنس کی مدت 10 سال ہوگی جس میں تجدید کی سہولت بھی شامل ہوگی، جبکہ سروس کے آغاز سے قبل ریگولیٹری سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ لائسنس ہولڈرز کو 12 ماہ کے اندر سروسز شروع کرنا ہوں گی۔ مزید برآں، کمپنیوں کے لیے پاکستان میں ڈیٹا سٹوریج اور پراسیسنگ لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ سیٹلائٹ آپریٹر کی متعلقہ اتھارٹی میں رجسٹریشن بھی ضروری ہوگی۔ بین الاقوامی بینڈوڈتھ مقامی LDI لائسنس یافتہ اداروں سے حاصل کرنا لازم ہوگا۔ پی ٹی اے نے صارفین کے ڈیٹا کی رازداری اور سکیورٹی کو یقینی بنانے، بغیر منظوری ٹیلی کام آلات کے استعمال پر پابندی، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سروس فراہم کرنے کی شرائط بھی عائد کی ہیں۔ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ کیا جا سکے گا، جبکہ لائسنس کی منتقلی کے لیے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگی۔