آئندہ بجٹ: گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑٰی خوشخبری
05-06-2026
(لاہور نیوز) آئندہ بجٹ میں آٹو انڈسٹری کیلئے ٹیکس ریلیف دینے کی تیاری، نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دیدی گئی۔
آئندہ وفاقی بجٹ میں مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینے اور سستے آٹو پارٹس کی تیاری کے لیے اہم ٹیکس ریلیف دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سی کے ڈی کٹس پر نان لوکلائزڈ پارٹس کے لیے 5 فیصد جبکہ لوکلائزڈ پارٹس کے لیے 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو بڑھانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کا دائرہ کار بیٹری الیکٹرک گاڑیوں سے بڑھا کر تمام نیو انرجی وہیکلز تک وسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں ای وی، پلگ اِن ہائبرڈ، رینج ایکسٹینڈڈ اور فیول سیل گاڑیاں شامل ہوں گی۔ ذرائع نے مزید کہا مقامی مینوفیکچررز کو الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور گاڑیوں کی محدود تعداد اسمبل کرنے پر خصوصی رعایت دی جائے گی، جبکہ ہر کمپنی کو 100 گاڑیوں تک رعایتی ڈیوٹی کی سہولت دینے کی تجویز ہے۔ یہ رعایت 30 جون 2027 تک مؤثر رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، اس کے ساتھ مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کو درآمدی مکمل تیار گاڑیوں پر ترجیحی تحفظ دینے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی گاڑیوں کے لیے اوسط ٹیرف 6 فیصد سے کم رکھنے اور پیٹرول پر چلنے والی درآمدی گاڑیوں پر مرحلہ وار ٹیرف کمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے سفارش کی ہے کہ الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور گاڑیوں کو بعض ڈیوٹی شرائط سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے نئی توانائی کی گاڑیوں کے لیے دو الگ ٹیکس کیٹیگریز تجویز کرتے ہوئے بیٹری الیکٹرک وہیکلز پر صرف 1 فیصد جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ، رینج ایکسٹینڈڈ اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی کے ڈی پارٹس پر رعایتی کسٹمز ڈیوٹی 30 جون 2028 تک برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے مقامی صنعت کو طویل مدتی استحکام ملنے کی توقع ہے۔