لاہورمیں جدید جوڈیشل ٹاور کا آغاز، چیف جسٹس عالیہ نیلم 8 مئی کو سنگ بنیاد رکھیں گی

05-06-2026

لاہور(محمد اشفاق) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مس عالیہ نیلم نے وکلاء کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے جوڈیشل ٹاور فیز ون کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے سنگ بنیاد رکھنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، چیف جسٹس 8 مئی کو باقاعدہ طور پر اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گی۔

حکام کے مطابق جوڈیشل ٹاور 17 منزلوں پر مشتمل جدید عمارت ہوگی، جس میں 3 بیسمنٹ فلورز پارکنگ کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت لاہور میں مختلف مقامات پر قائم سیشن، سول، فیملی اور فوجداری عدالتوں کو مرحلہ وار ایک ہی عمارت میں منتقل کیا جائے گا۔ جوڈیشل ٹاور کو مختلف بلاکس میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں کورٹس بلاک، ایڈمنسٹریٹو بلاک، وکلاء کے لیے علیحدہ بلاک، اے ڈی آر سینٹر، ریکارڈ رومز، جدید آرکائیوز، سکیورٹی کنٹرول رومز اور سائلین کے لیے ویٹنگ ایریاز شامل ہوں گے۔ منصوبے میں جدید لفٹس، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم اور مؤثر سکیورٹی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ وکلا، ججز اور سائلین کو درپیش پارکنگ کے مسائل کے حل کے لیے ملٹی لیول پارکنگ بھی منصوبے کا حصہ ہے، جہاں سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی گنجائش رکھی جائے گی، جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے علیحدہ پارکنگ زونز مختص کیے جائیں گے تاکہ رش اور بدنظمی پر قابو پایا جا سکے۔ حکام کے مطابق منصوبہ دو سال میں مکمل کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی مرحلے (فیز ون) پر تقریباً 9 ارب 15 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ فیز ون کی تکمیل کے بعد ایوان عدل میں عدالتوں کی منتقلی کے ساتھ ہی فیز ٹو کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ لاہور کے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سائلین اور وکلا کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔