میو ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات کی سنگین کمی، انتظامی خامیوں کا انکشاف

05-02-2026

(محمد اشفاق) میو ہسپتال لاہور میں بنیادی طبی سہولیات کی سنگین کمی اور انتظامی خامیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ٹوکن پرچی ملنے کے باوجود ہزاروں مریضوں کا علاج مکمل نہ ہو سکا۔

  یہ تفصیلات پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں، جو  دنیا نیوز  نے حاصل کر لیں۔ رپورٹ کے مطابق 9 اپریل کو مجموعی طور پر 6085 ٹوکن جاری کیے گئے، تاہم صرف 3639 مریضوں کا چیک اپ سسٹم میں ریکارڈ کیا گیا، اسی طرح 10 اپریل کو 4094 ٹوکن جاری ہوئے لیکن 1772 مریضوں کا سٹیٹس سسٹم میں ’اِن پراسیس‘ ہی رہا، جو کہ انتظامی بدنظمی کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ عدالت میں جمع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد سے زائد مریضوں کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں درج نہ ہونا سروس ڈلیوری پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، مزید برآں، او پی ڈی میں 144 سے 154 ڈاکٹروں کی تعیناتی کے باوجود مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ چیک اَپ کروانے والے 64 فیصد مریضوں کو ادویات فراہم نہ کی جا سکیں، 9 اپریل کو چیک ہونے والے 3639 مریضوں میں سے صرف 2664 کو ادویات تجویز کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے بھی محض 63 فیصد مریضوں کو مکمل یا جزوی ادویات مل سکیں، باقی 37 فیصد مریض فارمیسی کے چکر لگا کر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی بریک ڈاؤن کی صورت میں ہسپتال کا یو پی ایس بیک اَپ صرف 3 سے 4 منٹ تک محدود ہے جو کہ ایک بڑے تدریسی ہسپتال کے لیے ناکافی ہے۔ سرجیکل او پی ڈی میں صرف دو کمپیوٹرز دستیاب ہونے کے باعث ڈاکٹرز تھرمل سلپس کے پیچھے نسخے لکھنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض ڈاکٹرز موبائل فونز سے نسخوں کی تصاویر لے کر بعد میں ڈیٹا انٹری کرتے ہیں، جو قواعد کی خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔ کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں بروقت ڈیٹا انٹری نہ ہونے سے لیبارٹری اور ریڈیالوجی کے شعبے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کو اپنی آئی ڈی کے ذریعے خود مریضوں کا ڈیٹا سسٹم میں درج کرنے کا پابند بنایا جائے جبکہ او پی ڈی اور فارمیسی میں کمپیوٹرز کی تعداد فوری بڑھانے اور عملے کی تربیت کو لازمی قرار دیا جائے۔ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ریحان سعید، ڈپٹی ڈائریکٹر عاطف مسعود اور سہیل قیصر گل نے ہسپتال کا معائنہ کر کے یہ رپورٹ مرتب کی، جسے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو اصلاحات اور ضروری کارروائی کے لئے بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی دائر کردہ رٹ پٹیشن کے جواب میں جمع کرائی گئی ہے، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے۔