پاکستان شدید بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے شکار 10 ممالک میں شامل

04-26-2026

(لاہور نیوز) پاکستان کو دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں شدید بھوک اور غذائی عدم تحفظ سب سے زیادہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک عالمی غذائی بحران سے متعلق تازہ رپورٹ میں پاکستان کو افغانستان، بنگلہ دیش، کانگو، میانمار، نائجیریا، جنوبی  سوڈان، سوڈان، شام اور یمن کے ساتھ ان ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے جہاں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد شدید غزاےئ عدن تغفظ کا شکار رہے، ان میں سے تقریباً93 لاکھ افراد کو بحران کی سطح پر جبکہ 17 لاکھ افراد کو ہنگامی حالت میں شمار کیا گیا، جو کہ قحط کے بعد سب سے زیادہ خطرناک درجہ بندی ہے۔  یو این او رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غذائی بحران کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی اور خراب موسم ہے، خاص طور پر شدید بارشوں اور سیلاب نے فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، سال 2025 میں آنے والی شدید مون سون بارشوں اور اچانک سیلاب سے ساٹھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار اور روزگار دونوں بری طرح متاثر ہوئے۔ غذائی اور غذائیت سے متعلق تجزیے میں بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کو سب سے زیادہ تشویش والے علاقے قرار دیا گیا تاہم رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کے لیے حالیہ مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں، جسکی وجہ سے بعض معاملات میں شدت کی واضح درجہ بندی ممکن نہیں ہو سکی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو غذائی قلت کے خطرے والے ممالک میں بھی شامل کیا گیا ہے، اسکی بڑی وجوہات میں صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، صاف پانی اور صفائی کے مسائل، بیماریوں کا پھیلاؤ اور غذائیت کی کمی شامل ہیں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی 2026 میں تقریباً 6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔