ورلڈبینک اور ڈیویلپمنٹ پارٹنرز کے امدادی مشن برائے عملدرآمدی اجلاس،اعلیٰ افسران کی شرکت
04-24-2026
(لاہور نیوز)ورلڈ بینک اور ڈیویلپمنٹ پارٹنرز کے امدادی مشن برائے عملدرآمدی اجلاس منعقد ہوا جس میں اعلیٰ افسران سمیت دیگر اداروں سے تعقلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ایڈیشنل سیکرٹری(انتظامی امور )محکمہ صحت و آبادیو پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام پنجاب محمد اشرفنےورلڈبینکاور ڈیویلپمنٹ پارٹنرز کے امدادی مشن برائے عملدرآمدی مشتر اجلاس کی صدارتکی جس میںپنجاب میں جاری بنیادی صحت کے شعبے میں اصلاحاتمیںپروگرام کی طرفسےفراہم کی جانی والیتکنیکی اور مالیمعاونتکا تفصلیجائزہ لیا گیا۔ مشن کی سر براہی ولڈ بینک کے ٹاسک ٹیم لیڈر و سینئر ماہر معاشیات صحت جہانزیب سہیل کر رہے تھے جبکہ گلوبل فنڈ، جی ایف ایف،ایس سی ڈی او ، گاوی ای فار ایچ اور گیٹس فاؤنڈیشن کے نمائندگان بھی شر یک تھے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام پنجاب ایک ایسا پروگرام ہے جس کی بنیادی توجہ ابتدائی طبی سہولیات کی مضبوطی پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت و آبادی، حکومت پنجاب، صوبے بھر میں بنیادی صحت کے نظام کو مستحکم بنانے اور طبی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کر رہا ہے۔ اس موقع پر کیپٹن (ریٹائرڈ) عثمان علی نے پنجاب میں بنیادی صحت کے نظام کے ارتقاء اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے صحت سے متعلق اقدامات کے تحت جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے صحت کی سہولیات میں اصلاحات اور آؤٹ سورسنگ سے پہلے اور بعد کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی پر مبنی نظام کے نفاذ کے بعد نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس موقع پر مختلف پروگرامز کے سربراہان جن میں ٹی بی پروگرام، حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام، ڈائریکٹر ہیلتھ انفارمیشن اینڈ ڈیلیوری یونٹ ، آڈٹ و اصلاحات اور مریم نواز ہیلتھ کلینک نے اپنے اپنے رواں مالی سال کے اہداف کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ان بریفنگز میں بنیادی صحت کے مراکز کی استعداد بڑھانے، ڈیجیٹل نظام کے فروغ اور شفافیت و احتساب کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پروگرام وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے صحت اقدامات کی معاونت کرتے ہوئے صوبہ بھر میں طبی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے اور بنیادی صحت کی معیاری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اہم اقدامات میں فیلڈ ہسپتالز اور کلینکس آن ویلز شامل ہیں جن کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھائی جا رہی ہے۔ مزید برآں دیہی مراکز صحت میں لیول ون نرسریوں کا قیام نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نومولود پیچیدگیوں کے بروقت علاج کو یقینی بنایا جا سکے گا اور قابلِ تدارک شرح اموات میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے تحت دیہی مراکز صحت میں تپ دق، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور غیر متعدی امراض کی اسکریننگ کے لیے خصوصی ونڈوز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ بنیادی مراکز صحت میں اسکریننگ کیمپ بھی لگائے جائیں گے تاکہ ممکنہ مریضوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ مزید برآں، صوبے کے تمام چھتیس اضلاع میں پیدائش کے اندراج کے نظام کو مؤثر بنایا گیا ہے اور ہر پیدائش کو نادرا کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔