فارماسسٹ، ماہرِ نفسیات اور ڈینٹل ٹیکنیشنز کی کلینیکل پریکٹس غیر قانونی قرار
04-24-2026
(لاہور نیوز) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل) نے ملک میں بڑھتی عطائیت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے فارماسسٹ، ماہرِ نفسیات اور ڈینٹل ٹیکنیشنز کی جانب سے کلینیکل پریکٹس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے کونسل نے وزارتِ قومی صحت کو باقاعدہ خط ارسال کر دیا۔
خط کے مطابق بیماریوں کی تشخیص، ادویات تجویز کرنا اور مریضوں کا علاج صرف مستند ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس کا اختیار ہے، جبکہ صرف کونسل سے رجسٹرڈ ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس ہی ایلوپیتھک علاج اور سرجری کر سکتے ہیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ کسی بھی معاون شعبہ صحت سے وابستہ فرد کو دوا تجویز کرنے کی اجازت نہیں اور اس نوعیت کی پریکٹس انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ عطائیت کے باعث ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً اسلام آباد اور میرپور خاص میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کونسل نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ایسے غیر قانونی عمل کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ عوام کی جان و صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔