بسنت تہوار پر کتنی ہلاکتیں، کتنے شہری زخمی ہوئے؟ رپورٹ طلب
04-23-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے مقدمات میں گرفتار ملزمان سمیت قبضے میں لی گئی پتنگوں و ڈوروں کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دیں، عدالت نے آئندہ سماعت پر بسنت کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
جسٹس ملک محمد اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے موقع پر ایس ایس پی آپریشنز توقیر نعیم سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سرکاری رپورٹ اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے پیش کی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2026 سے 8 فروری تک ضلع لاہور میں کائٹ فلائنگ ایکٹ کے تحت 1926 مقدمات درج کیے گئے اور 2030 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس دوران ایک لاکھ 5 ہزار 718 پتنگیں قبضے میں لی گئیں جبکہ بسنت تہوار تک 2953 ڈوریں بھی برآمد کی گئیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بسنت کے بعد 9 فروری سے 3 اپریل تک ضلع لاہور میں 1255 مقدمات درج کیے گئے اور ان مقدمات میں 1255 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس عرصے میں 2025 پتنگیں اور 809 ڈوریں قبضے میں لی گئیں۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بسنت کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمی افراد کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ عدالت نے اس پر لاء افسر کو ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں سے مکمل معلومات حاصل کر کے پیش کی جائیں اور بتایا جائے کہ بسنت تہوار کے دوران کتنی ہلاکتیں ہوئیں اور کتنے شہری زخمی ہوئے۔جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر 28 اپریل کو اجلاس منعقد کرے۔ اس کیس کی مزید سماعت 30 اپریل ہو گی۔