محفوظ جنگلات میں کان کنی کی اجازت، پنجاب اسمبلی سے ترامیمی بل منظور

04-23-2026

(لاہور نیوز) پنجاب اسمبلی نے جنگلاتی اور محفوظ علاقوں میں کان کنی کی اجازت دینے سے متعلق دو اہم ترامیمی بل منظور کر لیے ہیں، جن کے تحت متعلقہ قوانین میں تبدیلی کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق جنگلات (ترمیم) ایکٹ 2026 کے ذریعے برطانوی دور کے قانون فاریسٹ ایکٹ 1927 میں ترامیم کی جائیں گی، جبکہ پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020 میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ترامیمی بلوں کا مقصد جنگلاتی علاقوں میں معدنی وسائل نکالنے کے لیے قانونی رکاوٹیں ختم کرنا اور کان کنی کے منصوبوں کے لیے واضح قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ بل کے مطابق اب محفوظ اور جنگلاتی اراضی کو معدنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، اور قومی اہمیت کے منصوبوں کو خصوصی اجازت بھی دی جا سکے گی۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام قومی معدنی پالیسی سے ہم آہنگ ہے اور اس سے معیشت کو فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور ریونیو میں بہتری آئے گی۔ اس کے ساتھ غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے ایک منظم ریگولیٹری نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔ دونوں مسودہ قوانین کمیٹی سے منظوری کے بعد ایوان سے منظور ہو چکے ہیں، اور اب ان کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔