ہائی کورٹس کے ججز کی رضامندی ختم، آئینی ترمیم کے تحت تبادلے شروع

04-22-2026

(لاہور نیوز) ہائی کورٹس کے ججز کو ان کی مرضی کے بغیر دوسرے صوبوں میں ٹرانسفر کرنے سے متعلق آئینی ترمیم پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 28 اپریل کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کو دیگر صوبوں میں ٹرانسفر کرنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کریں گے جبکہ کمیشن کے ممبران اور تمام صوبوں کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز بھی شرکت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت دو ججز کو لاہور ہائی کورٹ جبکہ باقی تین ججز کو بلوچستان ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔ جن ججز کے نام زیر غور ہیں ان میں محسن اختر کیانی، سردار اعجاز اسحاق اور بابر ستار سمیت پانچ ججز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگلے مرحلے میں لاہور ہائی کورٹ سے بھی ججز کے تبادلے کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین پاکستان کا آرٹیکل 200 میں تبدیلی کر کے ججز کے ٹرانسفر کے لیے ان کی رضامندی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ ترمیم کے بعد کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسرے صوبے میں ٹرانسفر کرنے کے لیے اس کی رضامندی ضروری نہیں رہی، جبکہ اگر کوئی جج ٹرانسفر کے بعد رضامندی ظاہر نہ کرے تو اسے جبری ریٹائرمنٹ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔