چوہنگ: سرکاری بس میں لڑکی پر تشدد کرنیوالے کنڈکٹر کیخلاف مقدمہ درج
04-21-2026
(ویب ڈیسک) لاہور میں سرکاری بس میں لڑکی پر تشدد کرنے والے کنڈکٹر کو ملازمت سے برطرف کر کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پیر کو یہ واقعہ شہر کے ایل ڈی اے سٹاپ کے قریب پیش آیا ہے جہاں عینی شاہدین کے مطابق بس ایک مصروف موڑ پر رکی ہوئی تھی اور اسی دوران ایک لڑکی بس میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بس کا کنڈکٹر لڑکی کو زبردستی نیچے اتارنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس دوران ہاتھا پائی بھی ہوتی ہے۔ واقعے کے بعد پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ کنڈکٹر سجاد علی کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم دیا، سرکاری بیان کے مطابق نہ صرف ملازم کو نوکری سے نکالا گیا بلکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ کسی بھی مسافر کے ساتھ بدتمیزی یا تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے رویے کے حامل افراد کی محکمہ ٹرانسپورٹ میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے نہ کہ انہیں تکلیف پہنچانا، مذکورہ ملازم کو بلیک لسٹ بھی کیا جائے گا تاکہ وہ مستقبل میں کسی بھی پبلک سروس ادارے میں ملازمت حاصل نہ کر سکے۔ پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ چوہنگ کی حدود میں پیش آیا جس کے بعد ملزم سجاد علی کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی تفصیلات سے متعلق بس میں موجود ایک مسافر نے بتایا کہ لڑکی بس میں سفر کرنا چاہتی تھی تاہم کنڈکٹر نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا، یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہوا تاہم بس میں موجود دیگر مسافروں نے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش بھی کی۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور سرکاری ٹرانسپورٹ میں مسافروں کے ساتھ رویے پر سوالات اٹھائے۔ دوسری جانب محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ’متاثرہ لڑکی ذہنی طور پر مکمل صحت مند نہیں اور ماضی میں بھی اسے مختلف مقامات پر گاڑیوں کو روک کر مسافروں کو تنگ کرتے دیکھا گیا ہے۔‘ سرکاری مؤقف میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کی ذہنی یا جسمانی حالت سے قطع نظر اس کے ساتھ تشدد یا بدسلوکی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اس کارروائی کے بعد حکام کی جانب سے کچھ مزید ویڈیوز بھی جاری کی گئیں جن میں مذکورہ لڑکی کو بس میں باقاعدہ سفر کرتے دیکھا جا سکتا ہے، ان ویڈیوز کا مقصد یہ ظاہر کرنا بتایا گیا کہ ٹرانسپورٹ سروس میں عمومی طور پر مسافروں کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے تاہم اس مخصوص واقعے میں پیش آنے والا رویہ قواعد و ضوابط کے خلاف تھا۔