محکمہ خوراک پنجاب میں مشکوک خریداری، مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف

04-19-2026

(ویب ڈیسک) محکمہ خوراک پنجاب میں مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں آڈٹ کے دوران 2 ارب 46 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی مشکوک خریداری کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ حکام کے مطابق محکمہ خوراک اہم ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا جبکہ خریداروں سے متعلق اہم دستاویزات بھی غائب پائی گئیں۔ علاوہ ازیں پولی پروپلین بیگز اور سی ڈی آر رجسٹر بھی آڈٹ کے دوران فراہم نہیں کیے جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ ضروریات کا تخمینہ حاصل نہیں کیا گیا اور خریداری میں تاخیر بھی سامنے آئی، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی بھی رپورٹ میں شامل ہے، جبکہ سالانہ خریداری منصوبہ بھی اپ لوڈ نہیں کیا جا سکا اور مالیاتی رپورٹ نامکمل رہی۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ خریداری کمیٹی کے دستخط مکمل نہیں تھے اور محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس نہ ہونے سے نگرانی کا نظام غیر مؤثر رہا۔ بار بار مہلت کے باوجود محکمہ مکمل ریکارڈ فراہم نہ کر سکا، جس کے باعث آڈٹ اعتراضات برقرار رہے۔ رپورٹ میں 23 کروڑ 71 لاکھ روپے کے ایک کیس میں ریکارڈ کی عدم فراہمی، سیلز ٹیکس کی رسیدیں فراہم نہ کرنے اور ٹیکس کٹوتیوں میں بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ حکام نے پنجاب سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی ریکوری کی سفارش کی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو نے معاملے کی مزید چھان بین کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داران کے تعین اور کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ ساتھ ہی پنجاب ایمپلائیز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی ایکٹ کے تحت کارروائی اور مالی ریکوری کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ آڈٹ حکام نے فوری طور پر مکمل ریکارڈ کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کو سنجیدگی سے نمٹنے پر زور دیا ہے۔