لاہورہیریٹیج بحالی: 20 منصوبے فنڈز کی کمی اور سست روی کا شکار
04-17-2026
(لاہور نیوز) لاہور اتھارٹی فار ہیریٹیج ریوائیول (لہر) کے تحت اندرونِ شہر اور تاریخی مقامات کی بحالی کے لیے شروع کیے گئے 22 منصوبوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن میں فنڈز کے اجرا، اخراجات اور پیش رفت کے حوالے سے اہم انکشافات ہوئے ہیں۔
یہ منصوبے اندرون شہر لاہور، سرکلر روڈ لاہور اور مال روڈ لاہور کے تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے شروع کیے گئے، تاہم دستاویزات کے مطابق 22 میں سے صرف دو منصوبوں کو مکمل فنڈنگ حاصل ہو سکی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیلا گنبد اور موچی گیٹ کے منصوبوں کو 100 فیصد فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی 20 منصوبے فنڈز کی کمی اور سست روی کا شکار ہیں۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سست ترین منصوبوں میں انارکلی ایریا، تاریخی ٹریل اور مال روڈ کی بحالی شامل ہیں، جہاں فنڈز جاری ہونے کے باوجود خرچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح دہلی گیٹ تا اکبری گیٹ سپائس مارکیٹ کی بحالی کا منصوبہ ایک ارب 54 لاکھ روپے کی لاگت سے جاری ہے لیکن اس کی رفتار بھی سست ہے، جبکہ شاہدرہ کمپلیکس کی بحالی کے پہلے فیز کے لیے 13 کروڑ روپے کے فنڈز کے باوجود کام تیزی نہ پکڑ سکا۔ لاہور قلعہ کے اضافی کاموں کے لیے 10 کروڑ روپے اور پرانی قلعہ بند دیوار کی بحالی کے لیے 30 کروڑ روپے جاری ہونے کے باوجود پیش رفت سست ہے، جبکہ شالیمار باغ کی بحالی بھی 20 کروڑ روپے کے فنڈز کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔ دوسری جانب انارکلی، جین مندر، پان گلی اور بخشش مارکیٹ کی بحالی کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاہم صرف ایک کروڑ جاری ہونے کے باعث کام تقریباً بند ہو چکا ہے۔ پرانے اسٹیم پمپ ہاؤس (پانی والا تالاب) کی بحالی 6 کروڑ روپے سے جاری ہے مگر سست روی کا شکار ہے، جبکہ ٹولنٹن مارکیٹ کے قریب زیرِ زمین پارکنگ منصوبہ 20 کروڑ کے فنڈز کے باوجود آگے نہ بڑھ سکا۔ نیلا گنبد ایریا کی اپلفٹنگ اور زیرِ زمین پلازہ کے لیے ایک ارب 26 کروڑ روپے سے کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ اندرونِ شہر میں زیرِ زمین بجلی و ٹیلی کام سسٹم کے لیے 90 کروڑ میں سے صرف 5 کروڑ خرچ ہونے کے بعد کام سست پڑ گیا ہے۔ سیوریج، ڈرینج، واٹر سپلائی اور سڑکوں کی بہتری کے لیے 80 کروڑ روپے کے فنڈز کے باوجود کام شروع نہ ہو سکا، جبکہ تاریخی ٹریل پر عمارتوں کے فرنٹ کی بحالی کے لیے 50 کروڑ میں سے صرف 5 کروڑ جاری ہونے کے بعد منصوبہ تقریباً بند ہے۔ علاوہ ازیں تاریخی عمارتوں اور حویلیوں کی بحالی اور سیاحت کے فروغ کے لیے 80 کروڑ روپے کے فنڈز تاحال جاری نہیں کیے گئے، جبکہ مال روڈ، نیلا گنبد، کنگ ایڈورڈ اور پاک ٹی ہاؤس کی بحالی کے لیے 10 کروڑ میں سے 3 کروڑ ملنے کے بعد کام رک گیا ہے۔ ناصر باغ، پنجاب یونیورسٹی اور جی سی یو کے اطراف کی بہتری کے لیے 5 کروڑ روپے ناکافی قرار دیے جا رہے ہیں اور کام سست روی کا شکار ہے۔ چار تاریخی دروازوں، ذکی، شاہ عالم، ٹکسالی اور موچی گیٹ کی تعمیرِ نو کے لیے 11 کروڑ روپے مختص ہیں مگر رفتار کم ہے، جبکہ وزیر خان بارہ دری، این سی اے اور میوزیم کے اطراف مال روڈ کی بحالی کے لیے 15 کروڑ روپے کے منصوبے بھی سست ہیں۔ دستاویزات کے مطابق موچی گیٹ، شیرانوالہ گیٹ اور ٹکسالی گیٹ کے قریب زیرِ زمین آرکیڈ اور پارکنگ منصوبے بالترتیب ایک ارب 15 کروڑ اور 90، 90 کروڑ روپے سے جاری ہیں، جبکہ ناصر باغ میں 77 کروڑ روپے کی لاگت سے زیرِ زمین پارکنگ پر کام جاری ہے۔ ٹولنٹن مارکیٹ کی بیوٹیفکیشن کے لیے 20 کروڑ روپے کے فنڈز تاحال جاری نہیں ہوئے، جبکہ علیحدہ طور پر 200 ملین روپے مختص ہونے کے باوجود صفر فنڈ جاری ہونے سے منصوبہ شروع ہی نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق لہر کے 22 منصوبوں میں سے 6 زیرِ زمین آرکیڈ اور پارکنگ منصوبے سب سے زیادہ بجٹ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب سیکرٹری بلدیات کا کہنا ہے کہ تعمیر و بحالی کے منصوبے تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں، اسی لیے ان کی رفتار سست دکھائی دیتی ہے، جبکہ انہوں نے فنڈز کی تقسیم میں کسی مسئلے کی تردید کی ہے۔ حکام کے مطابق اہداف مکمل کر کے منصوبے جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔ شکیل احمد میاں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تمام منصوبوں کو مقررہ اہداف کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔