فری بجلی بنیادی یا قانونی حق نہیں، عدالت نے حکومتی فیصلے پر مہر لگا دی

04-16-2026

(لاہورنیوز) واپڈا، پاور کمپنیوں کے گریڈ 17 کے افسران کو فری بجلی یونٹس نہیں ملیں گے، لاہور ہائیکورٹ نے حکومتی فیصلے پر مہر لگا دی۔

  لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال وینس نے بڑا فیصلہ سنا دیا، واپڈا کے گریڈ 17 کے افسران کو فری بجلی یونٹس سے کی سہولت ختم ہونے کے خلاف ریلیف نہ مل سکا۔واپڈا و پاور کمپنیوں کے گریڈ 17 کے افسران کی فری بجلی یونٹس سے ختم کرنے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ جاری کر دیا گیا۔ جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے گیپکو انجینئرز اینڈ آفیسر ایسوسی ایشن کی درخواستوں پر 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے فری بجلی یونٹس ختم کرنے کا وزارت انرجی کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ فری بجلی یونٹس کوئی بنیادی یا قانونی حق نہیں ہے، فری بجلی یونٹس سروس سے متعلق سہولت تھی جسے پالیسی کے تحت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق فری بجلی یونٹس کسی قانون یا رول کے تحت ثابت نہیں کیے جا سکے، حکومت نے مالی مسائل اور سرکلر ڈیٹ کے پیش فری یونٹس سے متعلق پالیسی فیصلہ کیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کو ایسے مالی و انتظامی پالیسی کے فیصلوں کا اختیار حاصل ہے، عدالت پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی جب تک غیر قانونی یا غیر ائینی کام نہ ہوں۔ تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ حکومت نے 2023 میں نوٹیفکیشن کے ذریعے فری بجلی یونٹس ختم کر کے فکس رقم مختص کر دی، درخواست گزاروں کے مطابق ان کے تقرری لیٹر میں فری یونٹس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کے مطابق واپڈا میں گریڈ ایک تا سولہ تمام ملازمین کو فری یونٹس ملتے ہیں، درخواست گزاروں کے مطابق صرف گریڈ سترہ کے افسران کے فری یونٹس ختم کرنا امتیازی سلوک ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق فری بجلی ختم نہیں کی گئی بلکہ رقم کی صورت میں تنخواہ میں شامل کی گئی، درخواست گزار کوئی بدنیتی، غیر قانونی یا آئینی خلاف ورزی ثابت نہیں کر سکے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدلیہ ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، پالیسی فیصلوں میں عدالتی مداخلت محدود ہوتی ہے، لاہور ہائیکورٹ نےفری بجلی یونٹس بحال کرنے کی درخواستیں خارج کر دیں۔