ثنا یوسف قتل کیس؛ ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد، ملزم کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
04-15-2026
(ویب ڈیسک) ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم عمر حیات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے عمر حیات کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار وکیل اور سٹیٹ کونسل عدالت پیش ہوئے جب کہ مدعی مقدمہ کی جانب سے سردار محمد قدیر ایڈووکیٹ بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی استفسار پر وکیل نے بتایا کہ رپورٹ فائل کردی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ رپورٹ کیا کہتی ہے، ماڈل کورٹ کے پاس کیس ہے، وہ تو جلدی ہی کرے گی۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ کورٹ کا ہمارے ساتھ کنڈکٹ ٹھیک نہیں، ہم نے کبھی التواء نہیں مانگا، سرکاری وکیل نامزد کرکے فوری جرح کرلی جاتی ہے جب کہ ٹرائل کورٹ کا کنڈکٹ درست نہیں کچھ ایسے الفاظ بھی استعمال کیے جو اوپن عدالت میں کونسل کے بارے میں نہیں کہے جاسکتے۔ ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ پہلے سے جرح کو ختم کرکے ہمیں دوبارہ جرح کرنے کا حق دیا جائے، ہمیں ٹرائل کورٹ پر اعتماد نہیں کسی بھی دوسری کورٹ میں منتقل کردیا جائے۔ وکیل مدعی مقدمہ سردار محمد قدیر نے کہا کہ 10 ماہ ہوگئے ہیں، لیکن 6 ماہ میں انہوں نے صرف دو گواہان پر جرح کی، جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت نے تفصیلی فیصلہ بھی دیا تھا،آج دن تک جرح نہیں ہوئی۔ وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ ماڈل کورٹ ہے اور اس نے انہیں بہت سہولت دی،چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ آپ کا رویہ جو ٹرائل کورٹ کے ساتھ ہے ایسے ٹرائل کورٹ آپ کے ساتھ کیسے چلے گی، جرح کیلئے آپ 10 گھنٹے لیں گے اور نہیں کریں گے کہ ہمیں وقت دیا جائے تو کیا ہوگا۔ عدالت نے وکیل ملزم سے استفسار کیا کہ آپ کیوں اسلام آباد ہائی کورٹ آئے ہوئے ہیں، جس پر وکیل نے بتایا کہ ہم ٹرائل کورٹ کے رویہ اور ہماری عدم موجودگی میں کاروائی بڑھانے کے خلاف آئے ہیں، ہم نے ٹرائل کورٹ کو بھی درخواست دی تھی جومسترد کردی گئی۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے موقع پر اسٹیٹ کونسل مقرر کرکے کہا ایک گھنٹہ میں جرح کریں، وکیل صاحب بیمار تھے ایک موقع توملنا چاہیے تھے۔ جس پر وکیل مدعی نے کہا کہ انہیں بہت سے مواقع ملے، لیکن کئی مرتبہ التواء مانگا گیا، جج صاحب پر بھی اعتراض کیا گیا۔ عدالت نے وکیل ملزم سے مکالمہ کیا کہ آپ ادھر آجاتے ہیں اور ادھر جاتے نہیں، آپ ادھر آئیں تو ادھر عدالت کو بتا کر آنا چاہیے، کونسل کا کنڈکٹ نظر نہیں آ رہا، کورٹ کا دوسری پارٹی سے بھی رابطہ اور تعلق بھی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وہ ماڈل کورٹ ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔ بعد ازاں، وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔