عدالت کا مسافر سے ضبط سونا اور 10 ہزار ڈالرز اصل حالت میں واپس کرنے کا حکم
04-11-2026
(لاہورنیوز) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال وینس کا بڑا فیصلہ، مسافر سے ضبط سونا اور غیر ملکی کرنسی اصل حالت میں واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ایئرپورٹ سے کسٹم حکام نے 22 سال قبل شہری سے تین کلو سونا اور 10 ہزار ڈالر اور برآمد کئے تھے، محکمہ کسٹم نے شہری سے برآمد ہونے والے تین کلو سونے کی اینٹ بنا دی۔ جسٹس اقبال وینس نے مسافر سے ضبط شدہ سونا اور 10 ہزار ڈالرز اصل حالت میں واپس کرنے کا حکم دے دیا، فیصلے کے مطابق سرکاری تحویل میں موجود کسی چیز کی ہیئت بدلنے سے مالک کا حقِ ملکیت ختم نہیں ہوتا۔ فیصلے کے مطابق ریاست محض ایک نگران ہے وہ کسی چیز کو غیرقانونی قبضے میں نہیں رکھ سکتی، کسٹمز حکام شہری کی قیمتی جائیداد کو اپنی مرضی کی قیمت سے تبدیل نہیں کر سکتے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق آئین کا آرٹیکل 24 شہریوں کو جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، عدالتی فیصلے کے بغیر کسی کو اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے کے مطابق عدالت کسٹمز حکام کا 58 لاکھ روپے ریفنڈ کا پرانا آرڈر غیر قانونی قرار دیتی ہے، کسٹمز حکام سونا قانونی طریقے سے نیلام کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ عدالت کے مطابق ہتھیائے گئے سونے کی محض قیمت کا تعین واپسی کا نعم البدل نہیں ہے، شہری سے ایک لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جائے، کسٹمز حکام سونے کو پگھلاکربنائی گئی سونے کی اینٹ درخواست گزار کےحوالے کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پٹیشنر کو 10 ہزار ڈالرز یا ادائیگی کے وقت کے ایکسچینج ریٹ کے مطابق پاکستانی روپے ادا کئے جائیں۔جسٹس ملک جاوید اقبال وینس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا، عدالت کا تحریری فیصلہ 9 صفحات پر مشتمل ہے۔ درخواست گزار عباس علی نے ضبط شدہ سونے اور ڈالرز کی واپسی کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا، عباس علی نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ سے بریت کے باوجود کسٹمز سونا واپس نہیں کر رہا۔ عباس علی نے موقف اختیار کیا کہ کسٹمز حکام نے سونا پگھلا کر اینٹ بنا دی، محکمہ سونا دینے کے بجائے 2007 کے سستے ریٹ پر پیسے دینا چاہتا ہے۔ کسٹمز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سونا سٹیٹ بینک کو منتقل ہو چکا، شہری کو مروجہ قانون کے تحت صرف فروخت شدہ رقم ہی مل سکتی ہے۔