حکومت توانائی شعبے کی سبسڈی 830 ارب روپے تک محدود کرنے کیلئے تیار

04-04-2026

(لاہور نیوز) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں توانائی شعبے کو 830 ارب روپے سے زائد سبسڈی نہ دی جائے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف نے مالی سال 2031 تک پاور سیکٹر گردشی قرض کو مکمل ختم کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا، توانائی شعبے کو دی جانے والی سبسڈی میں سالانہ بنیادوں پر بتدریج کمی کی ہدایت کی۔ مالی سال 2026-27 میں بجلی کے شعبے میں گردشی قرض بہاؤ کو صفر کرنے کا ہدف مقرر کیا، حکومت نے آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ اصلاحاتی پیکج کے تحت بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ، سبسڈی میں کمی ہو گی، پاور سیکٹر میں نجکاری اور گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات شامل ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا نجی انتظام میں منتقلی 2027 کے اوائل تک متوقع ہے جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔