تمباکو نوشی پر قابو پانے کیلئے سگریٹ مہنگے کرنے کی سفارش
04-03-2026
(ویب ڈیسک) شعبہ صحت سے وابستہ نجی تنظیموں نے ملک میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر سگریٹس پر ٹیکس میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (SPDC) اور سپارک (SPARC) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے تاکہ نہ صرف تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی ہو بلکہ قومی آمدن میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی پاکستان میں صحت کیلئے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر سال ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد اموات تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا مجموعی معاشی بوجھ ایک ہزار 835 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ سگریٹ پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن صرف 266 ارب روپے ہے، جو اس بوجھ کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ نجی صحت تنظیموں کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں سگریٹس کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہیں، جس کی وجہ سے خاص طور پر نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے، فروری 2023 کے بعد سگریٹ پر ٹیکس میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا۔ تجاویز کے مطابق اکانومی سگریٹ برانڈز پر 35 روپے جبکہ پریمیم برانڈز پر 21 روپے ٹیکس بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے، تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 51 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ عوامی صحت کے تحفظ میں بھی بہتری آئے گی۔