شوگر سیکٹر سے نکلنے کی تیاری، ڈی ریگولائزیشن پلان وزیراعظم کو پیش

04-02-2026

(ویب ڈیسک) آئی ایم ایف کی شرط پر وفاقی حکومت نے گندم کے بعد شوگر سیکٹر سے بھی نکلنے کی تیاری کر لی۔

وزارت صنعت و پیداوار  نے ڈی ریگولائزیشن پلان وزیراعظم کو پیش کر دیا، شوگر ملز کے لائسنس ، امپورٹ اور ایکسپورٹ سمیت ہر شعبہ ڈی ریگولیٹ ہو گا۔ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر پنجاب ، کے پی ، بلوچستان  نے آمادگی ظاہر کر دی، سندھ کی سفارشات موصول ہونا باقی ہیں، وزارت صنعت و پیداوار کے پیش کردہ پلان میں کسانوں کے تحفظ اور کارٹیلائزیشن کی روک تھام کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تجویز بھی شامل ہے، کسانوں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہو گی، کسی زون یا اقسام کی پابندی نہیں  ہو گی، کسان کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں آزاد ہو گا۔ مزید برآں گنے  کی قیمت کا تعین مارکیٹ کرے گی، آٹھ ماہ بند رہنے والی شوگر ملز باہر سے خام مال منگوا کر چینی بنا سکیں گی، حکومت چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دے گی، ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی بھی ختم کر دی جائے گی۔ کسانوں کو نقصان سے بچانے کیلئے ممنوعہ  گنے کی اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے، شوگر ملز کو باہر سے خام مال منگوا کر چینی تیار کر کے برآمد کرنے کی اجازت ہو گی۔