مہنگائی سے ریلیف پلان، وفاق اور صوبوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا

04-01-2026

(ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بڑھتی مہنگائی سے کمزور طبقے کو بچانے کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مشاورت جاری ہے، تاہم مختلف تجاویز پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف حتمی فیصلے کیلئے مزید مشاورت کریں گے۔ وزیر خزانہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ وفاقی حکومت اب تک تقریباً 130 ارب روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ مزید 25 سے 30 ارب روپے تک مالی گنجائش موجود ہے۔ اجلاس میں موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والوں کو ریلیف دینے کیلئے مختلف تجاویز زیر غور آئیں، جن میں روزانہ دو سے تین لٹر مفت پٹرول فراہم کرنا یا اس کے مساوی سبسڈی کی رقم براہ راست منتقل کرنا شامل ہے، تاہم وفاقی حکومت نے بائیک سواروں کو سبسڈی دینے کا معاملہ صوبوں پر چھوڑ دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیزل پر چلنے والی ٹرانسپورٹ، بسوں اور گڈز سروسز کیلئے سبسڈی دینے کے معاملے پر بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، چھوٹے کسانوں کیلئے فی ایکڑ 1500 روپے تک سبسڈی دینے کی تجویز زیر غور ہے، جو صرف پانچ ایکڑ تک اراضی رکھنے والے کسانوں تک محدود ہو گی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ سبسڈی کے طریقہ کار اور قومی سطح پر لائحہ عمل طے کرنے کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری رہے گا، ذرائع کے مطابق سندھ اور پنجاب کمزور طبقے کو براہ راست سبسڈی دینے پر آمادہ ہیں، تاہم حتمی فیصلے کیلئے مزید اجلاس متوقع ہیں۔