زرعی اراضی کے قوانین میں بڑی ترامیم منظور، تنازعات کے فوری حل اور ای-رجسٹریشن کا نظام متعارف

03-31-2026

(لاہور نیوز) پنجاب میں زرعی اراضی سے متعلق قوانین میں اہم ترامیم منظور کر لی گئی ہیں، جن کا مقصد زمین کے لین دین کو شفاف بنانا، تنازعات کے حل کو تیز کرنا اور ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی اصلاحات کے تحت اب زرعی زمین کی تقسیم ایک سے زائد ہولڈنگز میں کی جا سکے گی، جس سے وراثتی اور شراکتی معاملات میں آسانی پیدا ہوگی۔ حکومت نے زمین کے لین دین کے لیے ای-رجسٹریشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے تمام ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔ اس اقدام سے شفافیت بڑھے گی اور جعلسازی کے امکانات میں کمی آئے گی۔ ترامیم کے تحت زمین کے تنازعات کے حل کی مدت کو 420 دن سے کم کر کے 150 دن کر دیا گیا ہے، جبکہ اپیل دائر کرنے کی مدت بھی 60 دن سے کم کر کے 30 دن تک محدود کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی قبضہ داروں کے خلاف فوری بے دخلی کے اقدامات بھی ممکن بنائے گئے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق زرعی زمین کے حقوق کی منتقلی کا عمل بھی ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دیا جائے گا، جس سے نظام میں بہتری اور کرپشن میں کمی کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ترامیم سے پنجاب میں زرعی اراضی کے ریکارڈ کو مزید مستند بنایا جا سکے گا اور تنازعات کے حل کو تیز، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا۔