سرکاری تنصیبات کو نقصان یا چوری پر سخت سزائیں، پنجاب اسمبلی کمیٹی میں نیا آرڈیننس منظور
03-31-2026
(لاہور نیوز) پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اربن ڈویلپمنٹ نے "پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس 2026" کی منظوری دے دی، جس کے تحت سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے، چوری کرنے یا غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے۔
اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے تقریباً 30 فیصد ارکان کمیٹی روم میں موجود تھے جبکہ دیگر ارکان نے آن لائن شرکت کی۔ منظور آرڈیننس کے مطابق مین ہول کورز، سٹریٹ لائٹس، حفاظتی باڑ اور دیگر عوامی تنصیبات کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ قانون کے تحت سرکاری تنصیبات کی چوری پر ایک سے تین سال قید اور 2 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ بغیر اجازت تنصیبات اتارنے یا ان کی خرید و فروخت پر بھی اسی نوعیت کی سزا دی جائے گی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو 3 ماہ سے ایک سال تک قید اور 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں، سکریپ ڈیلرز اور ری رولنگ پلانٹس اگر اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث پائے گئے تو انہیں 3 سال تک قید اور 10 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ جرم دہرانے کی صورت میں سزاؤں میں مزید سختی کرتے ہوئے 3 سے 6 سال قید اور 3 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ آرڈیننس کے متن کے مطابق اگر ان جرائم کے باعث کسی شہری کی جان کو نقصان پہنچتا ہے تو اس پر پاکستان پینل کوڈ کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مافیا اور منظم گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ حکومتی نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، جبکہ آئندہ اجلاس میں اس بل کو باقاعدہ طور پر ایوان سے منظور کروایا جائے گا۔