لیڈی ولنگڈن ہسپتال ویڈیو سکینڈل، ڈاکٹروں اور سینئر افسران کے خلاف بڑا ایکشن
03-31-2026
(لاہور نیوز) لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں دورانِ آپریشن مریضہ کی مبینہ ویڈیو بنانے کے معاملے پر محکمہ صحت نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔
پانچ پوسٹ گریجوایٹ ڈاکٹروں کے خلاف انضباطی کارروائی کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو باضابطہ خط ارسال کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طیبہ، ڈاکٹر ماہم، ڈاکٹر زینب، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر عیسیٰ پر مریضہ کی ویڈیو بنانے کا الزام ہے، جس پر ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے معاملے میں غفلت برتنے پر سابق ایم ایس، ایچ او ڈی اور دیگر سینئر افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ان افسران میں سابق ایم ایس ڈاکٹر فرح، ایچ او ڈی ڈاکٹر عظمیٰ، سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر منیر، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر روطابہ اور ڈاکٹر منزہ، اور سینئر ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر درہ ارم شامل ہیں۔ محکمہ صحت نے ان افسران کو انتظامی کمزوری، نااہلی اور فرائض میں کوتاہی کا مرتکب قرار دیا ہے اور ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹری صحت عظمت محمود نے تمام متعلقہ افراد سے 7 دن کے اندر تحریری جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ کیس کی سماعت کے لیے آصف بلال لودھی اور میاں شکیل احمد کو ہیرنگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں نرسنگ اور دیگر اسٹاف کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور تمام افراد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 7 روز کے اندر ذاتی طور پر پیش ہوں یا اپنا تحریری مؤقف جمع کروائیں۔