سٹاک مارکیٹ میں بڑی گراوٹ سے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے: مزمل اسلم

03-30-2026

(لاہورنیوز) وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ سٹاک ایکسچینج کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن 75.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 59 ارب ڈالر پر آنے سے سرمایہ کاروں کے 16.5 ارب ڈالر ڈوب گئے۔

  سٹاک مارکیٹ گراوٹ پر ردعمل دیتے ہوئے مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ایران اسرائیل جنگ سے چھ ہفتے قبل سٹاک مارکیٹ بھی حکومت کا ساتھ چھوڑ گئی تھی، 26 جنوری کو سٹاک انڈیکس 191,000 پوائنٹس تھی جبکہ آج 148,000 پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں 43,000 پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے جو 22.5 فیصد بنتی ہے، مجموعی طو پر سٹاک ایکسچینج کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن 75.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 59 ارب ڈالر پر آگیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروں کے 16.5 ارب ڈالر ڈوب گئے ہیں۔ مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی روپے میں حساب لگایا جائے تو 4,600 ارب روپے بنتے ہیں، آج پاکستان کے پاس 3,300 ارب ہوتے تو بھاشا، مہمند، اور داسو ڈیمز کی تعمیر ہوجاتی، جبکہ 2100 ارب روپے سے ایک ایم ایل نائن (ML9) کی تعمیر ہوسکتی ہے۔ وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ اندازہ لگائیں اتنی بڑی گراوٹ میں کتنے سرمایہ کار سڑک پر آگئے ہوں گے، کتنے سرمایہ کار مقروض اور کتنوں کے اثاثوں کی نیلامی ہو چکی ہوگی۔