مارکیٹ میں من مانی، پھل سرکاری ریٹ سے کئی گنا مہنگے
03-27-2026
(لاہور نیوز) شہر بھر میں پھلوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق چند پھلوں کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا گیا، مگر مارکیٹ میں یہ پھل کئی گنا مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، سیب کالا کولو پہاڑی کی سرکاری قیمت 440 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم مارکیٹ میں درجہ اول سیب 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح سیب کالا کولو میدانی کی سرکاری قیمت 285 روپے ہے لیکن مارکیٹ میں یہی سیب 360 روپے فی کلو تک بک رہا ہے۔ کیلے کی سرکاری قیمت 230 روپے فی درجن مقرر ہے مگر مارکیٹ میں درجہ اول کیلے 280 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہے ہیں، امرود کی قیمت سرکاری ریٹ لسٹ میں 165 روپے فی کلو مقرر کی گئی، لیکن فروخت 300 روپے فی کلو تک جاری ہے۔ کینو کی صورتحال بھی مختلف نہیں، جہاں سرکاری نرخ 230 روپے فی درجن ہیں، وہیں بازاروں میں یہ 500 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہا ہے، بیر کی سرکاری قیمت 60 روپے فی کلو ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 120 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ دیگر پھلوں میں پپیتا 190 روپے کے بجائے 340 روپے فی کلو، خربوزہ سپیشل 95 روپے کے مقابلے میں 180 روپے فی کلو، اور انار قندھاری 690 روپے کے بجائے 1200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح کھجور اصیل کی سرکاری قیمت 360 روپے فی کلو ہے مگر مارکیٹ میں 440 روپے تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ کھجور ایرانی 480 روپے کے بجائے 540 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔