کفایت شعاری اقدامات: ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز
03-25-2026
(لاہور نیوز) ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے اور کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس پر حتمی فیصلہ قومی سطح پر تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق توانائی اور فیول کی بچت کے لیے ہائبرڈ ورکنگ پالیسی متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ تجویز کے تحت سرکاری دفاتر میں پانچ روزہ ہفتے کے لیے تین دن دفتر اور دو دن آن لائن کام جبکہ چھ روزہ سروسز دفاتر میں چار دن دفتر اور دو دن آن لائن کام کا ماڈل اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ دفاتر میں 50 فیصد روٹا سسٹم نافذ کر کے آمدورفت اور وسائل کے استعمال میں کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور آن لائن حاضری کے لیے مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کے ساتھ 65 فیصد لازمی حاضری کی شرط بھی عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ ہفتہ وار آڈٹ ریکارڈ کو لازمی قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی دفاتر میں بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ کی تجویز دی گئی ہے اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ خلاف ورزی پر تین ماہ کی فیول ریکوری اور گاڑی ضبطی کی سفارش بھی شامل ہے۔ سینئر افسران کے لیے کمبائن ٹرانسپورٹ کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے جبکہ صبح 10:30 بجے سے پہلے اے سی چلانے پر پابندی اور 60 دن کے اندر 50 فیصد سرکاری دفاتر کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کا پلان بھی زیر غور ہے۔ مزید برآں بازاروں اور شاپنگ سینٹرز کو رات 9:30 بجے بند کرنے، شادی ہالز میں ون ڈش اور 200 افراد کی حد مقرر کرنے کے ساتھ تقریبات کو رات 10 بجے تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ملازمین کی بجلی و فیول سہولیات میں تین ماہ کے لئے 50 فیصد کمی، انٹرنیٹ و ٹیلیفون ٹیکس میں 2.5 فیصد کمی، پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر 5 فیصد اضافی ٹیکس اور ٹول ٹیکس میں فلیٹ 50 روپے اضافے کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ کلیکشن سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور جاری ہے۔ علاوہ ازیں عوام کو ٹرین کے ذریعے سفر کی جانب راغب کرنے کے لئے ریلوے کرایوں میں کمی کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔