اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس ضروریات پوری نہیں ہو سکیں گی: پٹرولیم حکام
03-16-2026
(لاہور نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو پٹرولیم حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی جس کے باعث اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس ضرورت پوری نہیں کر سکیں گے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری پٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، پاکستان کو تقریباً 70 فیصد پٹرولیم مصنوعات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل ہوتی ہیں جب کہ عام حالات میں عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دن میں پاکستان پہنچ جاتا ہے لیکن اس وقت جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 187 ڈالر اور پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹر منظور احمد نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پہنچایا گیا تاہم سیکرٹری پٹرولیم کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ پٹرولیم کی ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے اپنایا گیا اوراس اقدام سے کمپنیوں کو فائدہ نہیں ہوا، قیمتیں بڑھانے سے درآمدات جاری رکھنے اور ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر ہدایت اللہ نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ7 مارچ سےپہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کیا تھی اور اس میں کتنا اضافہ ہوا، اس پر اوگرا حکام نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 100 فیصد اور پٹرول کی قیمت میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک میں خام تیل کے 11 دن، ڈیزل کے 21 دن، پٹرول کے 27 دن، ایل پی جی کے 9 دن اور جے پی ون کے 14 دن کے ذخائر موجود ہیں، موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے حکومت ریلیف پیکیج پر بھی کام کر رہی ہے۔ حکام نے اجلاس میں بتایا کہ 14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی جس کے باعث اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس ضرورت پوری نہیں کر سکیں گے اور پاور سیکٹر کی ضروریات دوسرے ذرائع سے پوری کی جائیں گی، آذربائیجان کی کمپنی سے ایل این جی خرید سکتے ہیں تاہم اسپاٹ خریداری 24 ڈالر تک ہو گی جب کہ قطر سے9 ڈالر پر گیس ملے گی۔ کمیٹی کو حکام نے بتایا کہ پاکستان میں مقامی گیس کی سپلائی بلاتعطل جاری ہے، مقامی گیس سپلائی میں کوئی مسائل نہیں ہیں، سب سے پہلے گھریلو اور پھر کمرشل صارفین کو گیس کی فراہم کی جارہی ہے، اس کے بعد باقی سیکٹرز کو گیس دے رہے ہیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ سوئی سدرن نے ایک فرٹیلائزر پلانٹ کو 50 فیصد گیس کی کٹوتی کی ہے، پاور سیکٹر کی سپلائی 300 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 130 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے، اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس ضرورت پوری نہیں کر سکیں گے،پاور سیکٹر کی ضروریات دوسرے ذرائع سے پوری کی جائیں گی۔