سوشل میڈیا انفلوئنسرنے آرٹس کے معروف تعلیمی ادارے میں ہراسانی کلچرفاش کردیا

03-10-2026

(ویب ڈیسک) پاکستان کے نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسرعبدالرحمان عاصم کا آرٹس کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں مبینہ بُلنگ کلچر سے متعلق انکشاف،سوشل میڈیا پرنئی بحث چھیڑدی۔

عبدالرحمان عاصم کی ویڈیوز خاص طور پر نوجوان نسل میں کافی پسند کی جاتی ہیں۔ سر پر رکھا ہوا ان کا مخصوص سرمئی تولیہ اور روزمرہ زندگی کے عام مگر دلچسپ موضوعات کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنا ان کی پہچان بن چکا ہے، جس نے لاکھوں ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ حال ہی میں انہوں نے خوشی کے ساتھ بتایا تھا کہ انہیں اپنی خوابوں کی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے جہاں وہ فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے داخلے کی ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی تھی جسے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی۔ تاہم چند ہی ہفتوں بعد انہوں نے ایک نئی ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اپنی اسی خوابوں کی درسگاہ کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے مداحوں کو حیران کر دیا اور بہت سے لوگوں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ بعد ازاں عبدالرحمان عاصم نے ایک ویڈیو کے ذریعے کھل کر بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے اندر بُلنگ کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے مطابق ادارے کے ماحول کا حصہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر بہت متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر بھی کئی افراد نے اپنی کہانیاں بیان کرنا شروع کر دیں۔ متعدد صارفین نے کہا کہ انہوں نے بھی تعلیمی اداروں میں اسی طرح کے رویوں کا سامنا کیا ہے۔ پاکستانی اداکاراؤں دُرفشاں سلیم اور دانیہ انور نے بھی عبدالرحمان عاصم کی ہمت کی تعریف کی اور کہا کہ ایسے مسائل پر بات کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ بُلنگ کے باعث انہیں اپنی تخلیقی سرگرمیاں تک چھوڑنا پڑیں، جبکہ کچھ نے یہ بھی کہا کہ ادارے میں بعض اساتذہ اور عملے کے رویوں پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ عبدالرحمان عاصم کی ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر تعلیمی اداروں میں بُلنگ اور ریگنگ کے مسئلے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ اس معاملے پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ عبدالرحمان نے اپنی اگلی پوسٹوں میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں اس معاملے پر سپورٹ کیا۔