پنجاب میں فلڈ زونز خالی کرانے کا فیصلہ، 3 ماہ کی ڈیڈ لائن، 17 منی ڈیمز بنانے کی تجویز منظور

03-06-2026

(لاہور نیوز) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پوسٹ فلڈ انتظامات کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیلاب سے بچاؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے،اجلاس میں متعلقہ محکموں نے تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں فلڈ زونز واگزار کرانے کے لیے فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر تمام فلڈ زونز خالی کرائے جائیں اور ان علاقوں میں نئی تعمیرات پر پابندی یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلڈ زون میں تعمیرات پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔ اجلاس میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا گیا جبکہ چنیوٹ میں بند کی تعمیر کے لیے فیزیبلٹی رپورٹ مکمل ہونے پر اس کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی۔ مزید برآں کالا باغ اور سدھنائی کے مقامات پر آبی ذخائر کی استعداد بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں Inflatable ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ پانی کے بہاؤ کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔ اجلاس میں پی ڈی ایم اے پنجاب کی ری سٹرکچرنگ کرتے ہوئے 8 نئے ونگز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ 563 کلومیٹر طویل 186 سڑکیں، 446 پلیاں اور ایک پل بحال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیو 1122 کو فلڈ آپریشن کے لیے جدید آلات فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی، جن میں 10 لینڈنگ کرافٹ، بوٹ کیریئر ٹرک، جدید نیویگیشن اور کمیونیکیشن سسٹمز اور فلائنگ لائف بوائے جیکٹس شامل ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے پانچ دریاؤں میں 1990 ہائی رسک، 1278 میڈیم رسک اور 3169 لو رسک فلڈ زونز موجود ہیں۔ صوبے میں آبپاشی کے 183 منصوبے جاری ہیں جبکہ 298 ڈرین اور سیلابی نالوں اور 67 ڈرینج سسٹمز کی ڈی سیلٹنگ کی جائے گی۔ اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ رواں سال معمول سے 28 فیصد زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے جس کے پیش نظر پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔