لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: سرکاری ملازمین کا تبادلہ سروس کا حصہ قرار

02-26-2026

لاہور: (محمد اشفاق) جسٹس راحیل کامران شیخ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے اور کوئی ملازم اپنی مرضی کے سٹیشن پر تعیناتی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے اپنے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ صرف آٹھ دن کے اندر تبادلہ ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں، جب تک انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو عدالتی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے مزید کہا کہ پرانے عدالتی فیصلے نئے قانون کی موجودگی میں درخواست گزار کے کام نہیں آ سکتے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد سابقہ قانون موثر نہیں رہا اور نئے قانون میں ملازمین کی تعیناتی کی مدت یعنی “سکیورٹی آف ٹینور” کا کوئی قانونی تحفظ موجود نہیں۔ عدالت کے مطابق محکمہ بلدیات کے ملازمین کو مخصوص مدت تک ایک ہی جگہ تعیناتی کا حق حاصل نہیں۔ عدالت نے بلڈنگ انسپکٹر محمد عمران ارشاد کی تبادلے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔ درخواست گزار نے محض آٹھ دن کے اندر عدالت سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ بغیر نوٹس اور ٹھوس وجوہات کے اتنی جلدی تبادلہ کرنا انتظامی بدنیتی ہے، تاہم عدالت نے بدنیتی ثابت نہ ہونے پر درخواست مسترد کر دی۔