پنجاب:مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے اہم قانون سازی کا فیصلہ

02-25-2026

(لاہور نیوز) حکومت پنجاب نے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اہم قانون سازی کا فیصلہ کر لیا۔ پنجاب اسمبلی میں ملازمین سوشل سکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترمیم کا بل آج پیش کیا جائے گا۔

صوبائی ملازمین سوشل سکیورٹی (ترمیم) ایکٹ 2026 کی کاپی لاہور نیوز نے حاصل کر لی ہے، جس کے مطابق بل میں دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق قانونی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔ حکومت پنجاب کم از کم اجرت 40 ہزار روپے کو لازمی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دستاویز کے متن کے مطابق اگرچہ کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر ہو چکی ہے، تاہم 1965 کے مسودہ قانون میں زیادہ سے زیادہ تنخواہ کی حد 22 ہزار روپے بدستور برقرار ہے، جس کے باعث قانونی اور محکمانہ پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ مجوزہ ترامیم کے ذریعے اس تضاد کو دور کیا جائے گا۔ بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ جولائی 2022 سے ادا کی گئی سوشل سکیورٹی شراکتوں کو قانونی طور پر درست قرار دیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے مالی و انتظامی مسائل سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق ان ترامیم سے 24 ارب روپے کے ممکنہ نقصان کو روکا جا سکے گا۔ قانون سازی کے طریقہ کار کے مطابق بل پیش ہونے کے بعد اسے دو ماہ کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد بل ایوان سے منظور کیا جائے گا جبکہ حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔