لاہورہائیکورٹ بار انتخابات: ضابطۂ اخلاق جاری، خلاف ورزی پر لاکھوں روپے جرمانہ اور نااہلی کی وارننگ

02-25-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سالانہ انتخابات کے لیے باقاعدہ ضابطۂ اخلاق جاری کر دیا ہے جس کے تحت خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر 2 سے 6 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں 15 لاکھ روپے جرمانہ یا نااہلی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ بار حکام کے مطابق انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت منعقد ہوں گے اور تمام امیدواروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پولنگ سے 24 گھنٹے قبل اپنی انتخابی مہم ختم کریں۔ ضابطۂ اخلاق کے تحت بار روم میں کسی بھی قسم کا اشتہاری مواد آویزاں کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ امیدوار یا ان کے سپورٹرز کی جانب سے ایس ایم ایس کے ذریعے انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ واٹس ایپ کے ذریعے مہم چلائی جا سکے گی۔ مدِ مقابل امیدواروں کے خلاف بیان بازی اور پریس کانفرنس کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مذہبی، سیاسی یا سماجی تقریبات کے انعقاد کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی امیدوار کو پانچ سے زائد وکلا کے ہمراہ انتخابی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ الیکشن ڈے سے قبل یا دورانِ پولنگ بیرونی انتخابی مہم پر بھی پابندی عائد ہوگی۔ امیدواروں اور ان کے حامیوں کی جانب سے دعوتوں اور ضیافتوں پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم انتخابی مہم کے دوران صرف ایک مرتبہ محدود ریفریشمنٹ کی اجازت دی گئی ہے۔ سپورٹر میٹنگ میں سنگل ڈش اور ایک میٹھے کی اجازت ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں نااہلی ہو سکتی ہے۔ بار حکام کے مطابق امیدوار 25 سے 27 فروری تک علیحدہ الیکشن آفس قائم کر سکیں گے، جہاں صرف ایک فلیکس یا بینر تصویر کے ساتھ لگانے کی اجازت ہوگی۔ ہائی کورٹ بار میں اجتماع یا قطار بنا کر ووٹ مانگنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضابطۂ اخلاق کا مقصد شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔