کم عمری کی شادی پر پابندی، نیا آرڈیننس پنجاب اسمبلی پہنچ گیا
02-21-2026
(ویب ڈیسک) صوبہ پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
اس حوالے سے نیا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، آرڈیننس کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی کو باقاعدہ جرم قرار دیا گیا ہے۔ مسودۂ قانون کے مطابق اگر کوئی نکاح رجسٹرار کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی رجسٹر کرے گا تو اسے ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے، اسی طرح 18 سال سے زائد عمر کا شخص اگر کم عمر لڑکی سے نکاح کرے گا تو اسے کم از کم دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ آرڈیننس میں مزید کہا گیا ہے کہ شادی کے بعد کم عمر فرد کے ساتھ رہائش اختیار کرنا یا ازدواجی تعلق قائم کرنا چائلڈ ابیوز تصور ہو گا، جس پر پانچ سے سات سال قید اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے، کم عمر بچوں کو شادی کی غرض سے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ کے زمرے میں آئے گا، جس پر بھی پانچ سے سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ سرپرست یا والدین اگر کم عمری کی شادی کرائیں گے تو انہیں دو سے تین سال قید کی سزا دی جا سکے گی، آرڈیننس کے تحت چائلڈ میرج سے متعلق تمام مقدمات سیشن کورٹ میں چلائے جائیں گے اور عدالت کو کم عمری کی شادی روکنے کیلئے فوری حکم امتناع جاری کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔