سرکاری ملازمین کی رہائش کیلئے نیا آفس میمورنڈم جاری
02-13-2026
(لاہور نیوز) حکومت نے سرکاری ملازمین کی رہائش کیلئے نیا آفس میمورنڈم جاری کر دیا۔
گریڈ 1 سے 22 تک کے وفاقی سرکاری ملازمین کیلئے رہائشی مکانات کی ہائرنگ کا اختیار وزارتوں کو منتقل کر دیا گیا، حکومت کی جانب سے 31 جولائی 2004 کا سابقہ آفس میمورنڈم منسوخ کر دیا گیا۔ نئے میمورنڈم کے مطابق وزارتیں ڈویژنز اور محکمے اپنے بجٹ کے اندر رہتے ہوئے رہائش ہائر کرنے کے مجاز ہونگے، پالیسی کا اطلاق ابتدائی طور پر چھ مخصوص شہروں کیلئے ہو گا، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ملازمین کے لئے ہو گا۔ نئے میمورنڈم کے مطابق ملازمین اپنے استحقاق کے مطابق نجی رہائش کا بندوبست کر کے مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں گے، سابقہ ہائر شدہ مکان خالی کرنے کی رپورٹ اور یوٹیلیٹی بلز کی کلیئرنس لازمی قرار دی گئی ہے، تمام وزارتوں اور محکموں میں کرائے کے تعین کیلئے اسیسمنٹ کمیٹی قائم کی جائے گی۔ لیز معاہدہ عام طور پر تین سال کیلئے ہو گا، ایک سال کا پیشگی کرایہ ادا کیا جائے گا، باقی ادائیگی چھ ماہ کی بنیاد پر کی جائے گی، ادائیگیاں متعلقہ AGPR کے ذریعے کی جائیں گی، قابل اطلاق انکم ٹیکس کی کٹوتی ہو گی، معاہدے میں توسیع متعلقہ وزارت یا محکمہ کرے گا جبکہ لیز کی مدت ختم ہونے سے تین ماہ قبل تجدید یا نیا مکان تلاش کرنا ملازم کی ذمہ داری ہو گی۔ نئے میمورنڈم کے مطابق تبادلے کی صورت میں نیا مکان الاٹمنٹ سے قبل نو ڈیمانڈ سرٹیفکیٹ لازم ہو گا، میاں بیوی ایک ہی سٹیشن پر ملازم ہوں تو صرف ایک ہائر شدہ رہائش کا اہل، دوسرا ہاؤس رینٹ الاؤنس کا حق دار ہو گا، کنٹریکٹ ملازمین اسی صورت اہل ہوں گے جب ان کے معاہدے میں سہولت درج ہو گی، ڈیلی ویجز، ایڈہاک اور کنٹینجنسی ملازمین ہائرنگ کے اہل نہیں ہونگے۔ وزارتیں متعلقہ بجٹ ہیڈ کے تحت فنڈز مختص کریں گی، ہائر شدہ مکان کی الاٹمنٹ پر ہاؤس رینٹ الاؤنس بند کیا جائے گا، الاٹیز کو 5 فیصد کرایہ کٹوتی سے استثنیٰ حاصل ہو گا، یوٹیلیٹی بلز اور کسی نقصان کی ذمہ داری الاٹی پر عائد ہو گی۔ نئے میمورنڈم کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیہی علاقوں میں شہری علاقوں کے برابر ہائرنگ کی اجازت، ون اسٹیپ بیلو اسیسمنٹ ختم کر دی گئی ہے۔