لیسکو کا یونٹ مہنگا، 5 کلو واٹ کی لیتھیم بیٹری 2.5 لاکھ روپے میں ملنے لگی
02-13-2026
(لاہور نیوز) بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور نئی نیٹ بلنگ پالیسی کے بعد کاروباری برادری نے حکومت کی توانائی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
تاجر نمائندوں کے مطابق موجودہ حالات میں لیتھیم بیٹری کے ذریعے بجلی پیدا کرنا روایتی گرڈ بجلی کے مقابلے میں سستا پڑ رہا ہے۔ صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ مارکیٹ میں 5 کلو واٹ کی لیتھیم بیٹری اوسطاً سوا دو لاکھ سے اڑھائی لاکھ روپے تک دستیاب ہے، جس سے یومیہ تقریباً 4.5 یونٹس قابل استعمال بجلی حاصل کی جا سکتی ہے، یہ بیٹری ماہانہ تقریباً 135 یونٹس، سالانہ 1620 یونٹس جبکہ پانچ سالہ وارنٹی مدت میں تقریباً 8100 یونٹس بجلی فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حساب سے لیتھیم بیٹری سے بجلی کی فی یونٹ لاگت تقریباً 25 سے 30 روپے بنتی ہے، جبکہ واپڈا یا لیسکو کا یونٹ 55 سے 60 روپے تک پڑ رہا ہے، حکومت نے پہلے سولر کو فروغ دے کر لوگوں کو اس طرف راغب کیا، مگر اب صارفین سے کئے گئے معاہدے ختم کر کے نئی نیٹ بلنگ پالیسی متعارف کرا دی گئی، جس سے حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ فہیم الرحمن سہگل کے مطابق نئی پالیسی کے بعد عوام کو دوبارہ لیتھیم بیٹریز کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس سے ان بیٹریز کی درآمد پر بھاری غیر ملکی زرمبادلہ خرچ ہو گا۔