مبینہ مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو طلب کر لیا

02-13-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ایک سال گزرنے کے باوجود مبینہ مغوی شہری علی حسن کی بازیابی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو 25 فروری 2026 کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے شہری عثمان علی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کیا۔ درخواست گزار نے 10 دسمبر 2024 کو علی حسن کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ پولیس افسران کے ہمراہ پیش ہوئے۔ تحریری حکم کے مطابق ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، اے آئی جی لیگل محمد سلیم چغتائی، آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی پی او گجرات رانا عمر فاروق اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین عبدالرحیم شیرازی سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علی حسن تاحال بازیاب نہیں ہو سکا۔ لاء افسر نے عدالت سے مزید مہلت کی استدعا کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست 10 دسمبر 2024 سے زیر التوا ہے اور اب تک مبینہ حراست میں لیے گئے شخص کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا، انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر عدالت نے مزید دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک مغوی بازیاب نہ ہوا تو آئی جی پنجاب خود پیش ہو کر وجوہات بیان کریں گے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 25 فروری 2026 تک ملتوی کر دی۔