فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کے خاتمہ کیلئے قوم کو متحد ہونا پڑے گا، سکیورٹی ذرائع

02-11-2026

(لاہور نیوز) سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔

لاہور میں میڈیا نمائندگان سے سکیورٹی عہدیدار، ذرائع کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے، پاکستان کے اندر تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ کے حملہ آور کو دہشتگردانہ حملے کی ٹریننگ افغانستان نے دی، بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کیخلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو ، اس سے فرق نہیں پڑتا، البتہ دہشت گردی کیخلاف ہمیں متحد ہونا ہے۔ ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہے، فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تین سال قبل 15 سے 20 ملین لٹر ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی، جو اب ختم ہوچکی ہے، سمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ گُڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتی ہے، احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گردوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، اس سلسلے میں خیبرپختونخوا میں کی جانیوالی حالیہ میٹنگز خوش آئند ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم نے معرکہ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی اسی طرح ہم دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے۔ تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے، اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بات چیت تمام سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، سیاست سے فوج کا کچھ لینا دینا نہیں، قانونی اور کورٹ کیسز اور اس سے جڑے تمام معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے۔